بھٹکل 7/جون (ایس او نیوز)ساحلی کرناٹکا میں منگل رات سے بدھ کی صبح تک ہوئی مسلسل بارش کے دوران یہاں سے قریب 15 کلومیٹر دور پڑوسی ضلع اُڈپی کے بیندور کے قریب اوتینانی قومی شاہراہ پر چٹان کھسکنے کی واردات پیش آئی جس کے نتیجے میں ہائی وے قریب چار گھنٹوں تک بلاک رہا، کافی مشقتوں کے بعد سڑک کے ایک طرف کی مٹی ہٹاکر بعد میں سواریوں کو آہستگی کے ساتھ آگے بڑھنے کا گرین سگنل دیا گیا۔
شیرور اور بیندور کے درمیان پہاڑی کو کاٹ کر بنائی گئی یہ نئی شاہراہ ابھی بھی سواریوں کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ صبح سڑک کی صفائی کے دوران بھی پہاڑی سے مٹی گرتی دیکھی گئی۔
حالات کے پیش نظر عوام شاہراہ کی توسیع کا کام سنبھالنے والی آئی آر بی کمپنی کو لاپرواہی کے ساتھ سڑک کی تعمیر کا الزام عائد کررہے ہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صبح کی اولین ساعتوں میں پہاڑی کھسکنے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا ہے، ان کے مطابق اگر یہ واردات دن کے اُجالے میں ہوئی ہوتی تو کوئی بھی سواری اس کی زد میں آسکتی تھی۔
مقامی لوگوں کی مانیں تو پہاڑی سے چٹان کھسکنے کی واردات صبح قریب چار بجے پیش آئی، جس کے بعد سے صبح آٹھ بجے تک ہائی وے بلاک رہا، بعد میں شاہراہ کے ایک طرف سے سواریوں کو گذرنے کی سہولت دی گئی۔
خیال رہے کہ مینگلور سے گوا تک نیشنل ہائی وے کو فورلائن میں تبدیل کرنے کا کام آئی آر بی انفراسٹرکچر کمپنی کو سونپا گیا ہے ، کچھ علاقوں میں کام مکمل ہوچکا ہے، البتہ بہت ساری جگہوں پر کام باقی ہے اور تیزرفتاری کے ساتھ شاہراہ کی توسیع کی جارہی ہے۔ حال ہی میں بیندور سے شیرور کے درمیان اوتینانی گھاٹ پر پہاڑی کو توڑ کر درمیان سے نئی شاہراہ سواریوں کے لئے کھول دی گئی تھی، مگر پہلی ہی بارش نے اس شاہراہ پر سے گذرنے والوں کو خطرے سے آگاہ کردیا ہے اور بتادیا ہے کہ یہ شاہراہ ساحلی علاقوں میں ہونے والی زوردار بارش کو نظر میں رکھ کر نہیں بنائی گئی ہے۔
زوردار بارش کے نتیجے میں یہاں پہاڑی کسی بھی وقت کھسک کر نیچے گرسکتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ بیندور میں پہلی بار اتنے گھنٹوں تک ہائی وے بند رہا، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں پریشانی ہوئی، بلکہ بسوں اور دیگر سواریوں پر سوار لوگوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بارش کے چلتے وہ کئی گھنٹوں تک سواریوں کےاندر ہی قید ہوکر رہ گئے۔